نئی دہلی، 2 جنوری (آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے ہفتہ کے روز ایک مجلس میں ٹرپل طلاق دینے کے معاملے میں اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرپل طلاق دینے والے شوہر کے رشتہ دار کو ملزم نہیں مانا جاسکتا کیونکہ شوہر نے تین طلاق دے کر جرم کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے متاثرہ لڑکی کی ساس کو پیشگی ضمانت دیتے ہوئے مذکورہ بالا تبصرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ٹرپل طلاق کیس میں پیشگی ضمانت دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں بنچ نے کہا ہے کہ شوہر کے لواحقین پر طلاق مخالف تین قوانین یعنی مسلم خواتین (ازدواجی حقوق) ایکٹ کے تحت الزام نہیں عائد کیا جاسکتا۔ ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے متاثرہ لڑکی کی ساس کو پیشگی ضمانت دے دی۔
ملزم کے شوہر نے تین طلاق دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پہلی نظر میں اندازہ ہوتا ہے کہ متاثرہ خاتون کی ساس ہے وہ خاتون جو طلاق دینے والی شوہر کی ماں ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ایک مسلمان شخص نے جرم کیا ہے اور ایسی صورتحال میں اس کی والدہ پر الزام نہیں عائد کیا جاسکتا ہے۔جسٹس چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ مسلم خواتین (شادی تحفظ حقوق) ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت ایک ہی بار میں مسلمان مردوں کا تین طلاق دینا جرم ہے۔ دفعہ 4 میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق دینے کے مجرم شوہر کو تین سال تک قید ہوسکتی ہے۔